1. Welcome to the EDUCATION.PK

    You are currently viewing our forum as a guest which gives you limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community you will have access to post topics, respond to polls, upload content and access many other special features. Registration is fast, simple and absolutely FREE so please, join our community today!

    If you have any problems with the registration process or your account login, please contact us at support@education.pk.
    Dismiss Notice

اردو جسمانی آوارگی سے بھی بدتر فکری یا ذہنی آوارگی ہے

Discussion in 'Ideas - خیالات' started by sunrise, Oct 11, 2017 at 10:39 AM.

  1. sunrise

    sunrise Well-Known Member

    Joined:
    Jul 5, 2016
    Messages:
    216
    Likes Received:
    2
    آوارہ گردی کی دفعہ ماضی میں کبھی پائی جاتی تھی۔ ہم اپنے بچپن میں سنتے تھے کہ فلاں شخص کو آوارہ گردی کے الزام میں دھر لیا گیا کہ وہ رات کے پچھلے پہر بغیر کسی ضرورت کے سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔ اب جب سے سوشل میڈیا پر پروان چڑھنے والی نسل مارکیٹ میں آئی ہے تو آوارہ گردی کی جگہ ’’لانگ ڈرائیو‘‘ اور ’’ویک اینڈ ہینگ آؤٹ‘‘ جیسے بظاہر مہذب استعاروں نے لے لی ہے۔

    جسمانی آوارگی سے بھی بدتر فکری یا ذہنی آوارگی ہے۔ انسانی ذہن جسم کا مال روڈ ہوتا ہے۔ یہاں سے شاہی سواری کو بھی گزرنا ہے اور کچرے کی ٹرالی کو بھی۔ فکر اور سوچ کو لگام ملنی چاہئے۔ اگر آدمی جو جی چاہے سوچتا پھرے تو اس کی تباہی میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔ کیا چیز میرے سوچنے کے قابل ہے، کیا نہیں۔ انسان جب تک اشیاء کے منفی و مثبت پہلو سوچنے کے قابل نہ ہو، بچہ ہی رہتا ہے۔

    ہمارے ملک میں ہر چائے والے کو پتا ہے کہ اگلا چیف آف اسٹاف کسے آنا چاہیے، ہر بال کاٹنے والے حجام کو معلوم ہے کہ اگلا الیکشن کون جیتے گا، ہر موچی کو منسٹری آف کامرس پر مکمل دسترس ہے اور ہر نوجوان کو شرحِ صدر ہے کہ دنیا میں کیا کیا ہو رہا ہے اور ہم کتنے پیچھے ہیں۔ مگر حیرت اس بات کی ہے کہ جو کام وہ خود کر رہے ہیں، وہ کرنا نہیں آتا۔ نہ ڈھنگ کی چائے بنانی آتی ہے، نہ بال کاٹنے، نہ جوتا گانٹھنا اور نہ پڑھنا لکھنا۔

    جس طرح غذا جسم کو باقی رکھتی ہے، اسی طرح علم روح کو باقی رکھتا ہے۔ اب ہر کوئی اگر سیاسی معاملات اور فوج، عدلیہ اور سیاستدانوں کی آپس کی چپقلش کی لائیو کمنٹری میں ہی لگا رہے گا تو پڑھے گا کب؟

    یقین جانیے کہ شاخوں کو پانی دینے سے جڑیں گیلی نہیں ہوتیں۔ جب تک آدمی پِتّہ ماری کی محنت نہ کرے، جب تک اسے رات کی سیاہی کو دن کے اجالوں میں بدلنے کا ہنر نہ آئے، نصیبوں کی کالک نہیں دُھلتی۔

    ذہنی آوارگی ہمارے معاشرے میں وقت کے ضیاع کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ گھر سے کالج پڑھنے کے لئے نکلے، راستے میں کچھ لوگ لڑ رہے تھے۔ آپ رک کر یہ ٹوہ لگانے میں لگ گئے کہ کیا ہوا ہے؟ آگے کسی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا، پھر بارش ہو گئی تو آپ موبائل پر تصاویر لینے میں مشغول ہو گئے۔ پھر فیس بک پر لائیک اور کمنٹس کا سلسلہ چل نکلا۔ پھر کرکٹ میچ، پھر کسی مشہور آدمی یا ایکٹر کا قصہ، پھر سیاسی ہنگامہ آرائی اور آخر میں انڈیا کو دو چار گالیاں دے کر حب الوطنی کا قرض اتار دیا اور دن ختم۔

    ان تمام مصروفیات میں جو کام کرنے چلے تھے، بس وہی نہیں ہوا۔

    کوئی کتاب پڑھنی ہو، کوئی مضمون لکھنا ہو، کوئی اسائنمنٹ جمع کروانا ہو، والدین کا کوئی کام ہو، کوئی ذکر کرنا ہو، اس بلاوجہ کی ذہنی آوارگی نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ حتی کہ بیوی بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی موبائل پر جتے ہوئے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک مصالحہ دار خبروں یا ویڈیوز کی تلاش، پھر انہیں درجنوں لوگوں کو فارورڈ کرنا اور جھوٹی تعریف وصول کرنا؛ لا حول ولا قوۃ۔

    اس سے اچھا ہے کہ آدمی مرجائے تاکہ اپنے ساتھ ساتھ لوگوں کا وقت تو برباد نہ کرے۔

    ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ یہ ذہنی آوارگی کی وجہ سے سوچ و فکر کا جو قحط پڑا ہے، اس سے کیسے نکلا جائے؟

    آئیے! کوشش کرتے ہیں کہ زندگی سے فضول و لایعنی چیزوں کو ایک ایک کرکے نکالتے ہیں تاکہ وقت میں برکت ہو اور دل لگا کر دھیان سے کچھ کر سکیں۔

    ذیشان الحسن عثمانی